کوئٹہ / کراچی: کراچی سے تعلق رکھنے والے تاجر علی مرتضیٰ جمیل، جو اپنی فیملی کے ساتھ خوشگوار لمحات گزارنے بلوچستان گئے تھے، مستونگ کے علاقے دشت میں نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کا نشانہ بن کر جان کی بازی ہار گئے۔ واقعے میں ان کی اہلیہ ۵ گولیاں لگنے سے شدید زخمی ہوئیں جبکہ گاڑی میں موجود ۴ اور ۵ سال کی دو معصوم بیٹیاں معجزانہ طور پر محفوظ رہیں، تاہم وہ شدید صدمے کی حالت میں ہیں۔
تفصیلات کے مطابق علی مرتضیٰ جمیل اپنی اہلیہ اور دو کمسن بیٹیوں کے ہمراہ چند روز قبل اپنی گاڑی میں کراچی سے کوئٹہ سیرو تفریح کے لیے آئے تھے اور اپنے قریبی دوست احسن خان کے ہاں مقیم تھے۔ زیارت اور ہنہ اوڑک کی سیر کے بعد، جمعہ کی رات انہوں نے کراچی واپسی کا فیصلہ کیا۔ مقتول کے دوست احسن خان نے بتایا کہ انہوں نے رات کے سفر سے روکنے کی بہت کوشش کی، تاہم علی مرتضیٰ نے کراچی میں ضروری کام کا حوالہ دے کر رات ۱۱ بجے روانگی کو ترجیح دی۔
گوگل میپ کی غلطی اور المناک موڑ:
ابتدائی تفتیش کے مطابق، کوئٹہ کراچی روڈ کی توسیع کا کام ادھورا ہونے اور راستوں سے ناواقفیت کی وجہ سے علی مرتضیٰ سریاب روڈ سے لکپاس کی طرف مڑنے کے بجائے جنوب کی طرف سیدھے کوئٹہ سبی روٹ پر چل پڑے۔ سرکاری حکام کے مطابق مبینہ طور پر گوگل میپس (Google Maps) کی غلط رہنمائی کی وجہ سے وہ راستہ بھٹک کر ضلع مستونگ کی حدود میں واقع ‘دشت کمبیلا’ کے ایک کچے اور خطرناک علاقے میں پہنچ گئے، جہاں پہلے بھی عسکریت پسندوں کی ناکہ بندیوں کی اطلاعات رہی ہیں۔ وہاں گھات لگائے نامعلوم مسلح عناصر نے گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کر دی، جس کے نتیجے میں علی مرتضیٰ موقع پر ہی دم توڑ گئے جبکہ ان کی اہلیہ شدید زخمی ہوگئیں۔ فائرنگ کے بعد زخمی خاتون اور معصوم بچیاں کئی گھنٹوں تک لاش کے ساتھ گاڑی میں محصور رہیں، جنہیں صبح ۴ بجے کے قریب سیکیورٹی فورسز نے پہنچ کر کوئٹہ منتقل کیا۔
والد کا احتجاج اور سیکیورٹی پر سوالات:
جوان بیٹے کی ہلاکت پر مقتول کے والد جمیل نے شدید صدمے اور احتجاج کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ان کا بیٹا بلوچستان کو ایک مہمان نواز صوبہ سمجھتا تھا اور اسے اپنے ملک پر پورا اعتماد تھا۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ "اگر وہاں جانے والوں کی جان محفوظ نہیں، تو لوگوں کو وہاں جانے سے روک دیا جائے اور واضح لکھ دیا جائے کہ وہاں کوئی نہ جائے۔” والد نے سیکیورٹی اداروں پر رات کے وقت بروقت کارروائی نہ کرنے کا الزام بھی لگایا، تاہم محکمہ داخلہ بلوچستان کے معاون بابر یوسفزئی نے اس کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ پولیس نے فوری کارروائی کر کے زخمی خاتون اور بچوں کو ریسکیو کیا۔
حکومتی ردعمل اور اقدامات:
بلوچستان کے وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے اس بہیمانہ قتل کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ مہمانوں کو اس طرح نشانہ بنانا بلوچستان کی روایات کے سراسر منافی ہے، اور ملوث عناصر کو کسی صورت معاف نہیں کیا جائے گا۔ حکومتِ بلوچستان کی جانب سے مقتول کی میت اور زخمی اہلیہ کو کراچی منتقل کر دیا گیا ہے جہاں خاتون کا علاج جاری ہے۔ مزید برآں، وزیراعلیٰ بلوچستان کے دفتر سے متاثرہ خاندان سے تعزیت کی گئی ہے اور دونوں معصوم بچیوں کے تمام تعلیمی اخراجات سرکاری طور پر اٹھانے کا اعلان کیا گیا ہے۔
