ستمبر 28, 2026

کراچی منگھوپیر میں 8 ستمبر کو ڈکیتی مزاحمت میں جاں بحق ہونے والے حافظ روشم حسین کی نماز جنازہ ادا کردی گئی ۔ لواحقین، عزیز و اقارب سمیت بڑی تعداد میں عوام نے شرکت کی ۔

کراچی منگھوپیر میں ڈاکوؤں کے ہاتھوں گھر میں ڈکیتی کے دوران فائرنگ سے جان گنوانے والے روشم حسین کی نماز جنازہ کے موقع پر لوگوں کی بڑی تعداد موجود تھی
روشم حسین کی نماز جنازہ میں کی گئی جس میں ٹاؤن چیئرمین منگھوپیر نواز علی بروہی سمیت لواحقین، عزیز و اقارب اور اہل علاقہ شریک ہوئے ۔

جنازے میں شریک افراد کا کہنا تھا اتنے دن تک پر امن احتجاجی دھرنا جاری رہا ۔۔۔ سندھ پولیس نے اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کیا

ایک پرامن ایک تاریخی جو احتجاج کیا گیا منگوپیر میں اور جو پولیس نے اور خاص طور پر سی آئی نے جو ریکوری کی ہے وہ یہ ایک بڑا ایک بہترین اقدام ہے سندھ پولیس کا اور لواحقین کے صبر کا
یہ جو ملزم پکڑا گیا ہے یہ اس طریقے سے تقریبا پانچ چھ گروہوں میں الریڈی پہلے اسی طریقے کے واردات کر چکے ہیں تو ہم سندھ پولیس کا بھی شکریہ ادا کرتے ہیں
مقتول کی تدفین مقامی قبرستان میں کردی گئی ۔ 8 ستنبر کو واقعہ کے بعد اہلخانہ نے منگھوپیر تھانے کے باہرلاش رکھ کا احتجاج شروع کیاتھا ۔ مختلف سیاسی سماجی شخصیات سمیت ایڈیشنل آئی جی آزاد خان نے مقتول کے والد کو ملزمان کی گرفتاری کی یقین دہانی کرارتے ہوئے تدفین پر زور دیا ۔ لیکن لڑکے کے والد ملزمان کی گرفتاری تک تدفین نہ کرنے کے فیصلے پر قائم رہے ۔ 25 ستمبر کو ڈسٹرکٹ ویسٹ پولیس نے منگھوپیر میں مبینہ طور پر واقعہ میں ملوث دو اہم ملزمان کو گرفتار کرلیا۔ جس کے بعد 26 ستمبر کو احتجاج ختم کرنے کا اعلان کیا گیا

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے