جولائی 10, 2026


کراچی کی مقامی عدالت نے سانحہ گل پلازہ کیس میں پولیس چالان مسترد کردیا۔ضلعی انتظامیہ سمیت تمام اداروں کے کردار کا تعین کرنے کی ہدایت۔ نئے تفتیشی افسر کو ازسرنو تحقیقات کا حکم دے دیا۔
جوڈیشل مجسٹریٹ جنوبی نے سانحہ گل پلازہ کیس میں پولیس چالان مسترد اور تحریری حکم نامہ جاری کردیا۔عدالت نے تحریری حکم نامے میں کہا ہے تفتیشی افسر نے واقعے کے مکمل اور تمام پہلوؤں پر موثر تفتیش نہیں کی۔تفتیشی افسر اداروں کی مجرمانہ غفلت کی تحقیقات میں ناکام رہا۔گل پلازہ کی سیفٹی اور رولز اینڈ ریگولیشن کی خلاف ورزی کا تعین نہیں کیا گیا۔تفتیشی افسر ایس بی سی اے ،سول ڈیفنس ،کے ایم سی ،فائر برگیڈ، ریسکیو ڈبل ون، ڈبل ٹو کی ذمہ داریوں سے متعلق بھی نہیں بتا سکا ۔ ستر سے زائد قیمتی جانیں کسی قدرتی آفات کے نتیجے میں نہیں گئیں۔انسانی جانیں ممکنہ مجرمانہ غفلت کے باعث ہوئیں تو ذمہ داروں کا تعین ناگزیر ہے۔
تحریری حکم نامے میں لکھا ہے سرکاری وکیل کے مطابق پولیس چالان کی اسکروٹنی کے بعد نقائص کی نشاندہی کی گئی۔تفتیشی افسر نے دو بارہ چالان واپس کرنے کے باوجود نقائص دور نہیں کیے۔عدالت پولیس کی تفتیش من وعن تسلیم کرنے کی پابند نہیں ہے۔کیس کی مزید تحقیقات کی ضرورت ہے ۔عدالت نے تحریری حکم نامے میں کہا ہے ایس ایس پی انوسٹی گیشن ،،،کم سے کم ڈی ایس پی رینک کے افسر کو تفتیشی افسر مقرر کریں ۔تفتیشی افسر گل پلازہ کا منظور شدہ نقشہ اور ریگولرایزیشن حاصل کرے ۔ریکارڈ کا اصل اسٹرکچر کے ساتھ موازنہ کیا جائے ۔تفتیشی افسر جائزہ لے کہ گیارہ سو دو دکانیں،،، گیارہ سو ترپن میں کیسے تبدیل ہوئیں۔
عدالت نے تحریری حکم میں لکھا ہے ایس بی سی اے کے ذمہ دار افسران کی نشاندہی کی جائے ۔سول ڈیفنس سے فائر سیفٹی انسپیکشن کا ریکارڈ حاصل کیا جائے ۔تفتیشی افسر گل پلازہ ڈسے متعلق ریکارڈ مارکیٹ کمیٹی اور سول ڈیفنس سے حاصل کرے۔ ریسکیو ڈبل ون ، ڈبل ٹو، فائر برگیڈ،کے ایم سی ،ضلعی انتظامیہ اور ٹریفک پولیس سے فائر سیفٹی اور ریسکیو اقدامات کا ریکارڈ حاصل کیا جائے۔ تفتیشی افسر کے ایم سی اور ضلعی انتظامیہ سے فائر آڈٹ اور انسپیکشن رپورٹ بھی حاصل کریں۔ ٹریفک پولیس کے کردار کا بھی جائزہ لیا جائے ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے