سندھ حکومت کا سانحہ گل پلازہ پر جوڈیشل کمیشن قائم کرنے کا امکان۔ کمشنر کراچی کی سربراہی میں انکوائری کمیٹی کی تحقیقاتی رپورٹ کے مزید سنسنی خیز انکشافات سامنے آگئے۔
رپورٹ کےمطابق گل پلازہ میں آگ گرائونڈ فلور پر واقع مصنوعی پھولوں کی دکان سے پھیلی۔ دکان کا مالک اپنے گیارہ سالہ بیٹے کو دکان پر چھوڑ کر باہر چلا گیا تھا۔ لڑکا اپنے دوست کے ساتھ لائٹر سے کھیل رہا تھا۔ اسی دوران آگ لگی۔ آگ اور دھواں اے سی کے ڈ کٹس سے پھیلے۔چوکیداروں کو ہدایت تھی کہ اگر کبھی آگ لگنے کا واقعہ ہو ،،تو لائٹ آف کردیں ،،جس پر انہوں نے عمل کیا ۔پلازہ میں پھنسے لوگوں کو لائٹ نہ ہونے کی وجہ سے باہر نکلنے میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔آگ بجھانے کے لئے آنے والے تین فائر ٹینڈرز کے پاس تھوڑی دیر بعد پانی ختم ہوگیا۔ پانی کی دوبارہ فراہمی میں پینتالیس منٹ کا وقت لگا۔ فائر فائیٹرز کی ایسی صورتحال سے نمٹنے کے لئے ٹریننگ نہیں تھی۔ ریسکیو ڈبل ون، ڈبل ٹو کی ٹیم گیارہ بجکر ترپن منٹ پر گل پلازہ پہنچی۔ گل پلازہ میں لگنے والی آگ بجھانے کے دوران مختلف محکموں میں رابطے کا فقدان نظر آیا۔ کمشنر کراچی کی سربراہی میں انکوائری کمیٹی کی رپورٹ میں لکھا ہے گل پلازہ کے بلڈنگ پلان کی تبدیلی پر بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی نے کارروائی نہیں کی۔سول ڈیفنس نے آگ بجھانے کے آلات کی جانچ نہیں کی۔ بیس صفحات پر مشتمل تحقیقات رپورٹ کے ساتھ ایس بی سی اے، ریسکیو ڈبل ون، ڈبل ٹو ، سول ڈپارٹمنٹ، ضلعی انتظامیہ، فائر ڈپارٹمنٹ اور پولیس کی رپورٹس بھی منسلک ہیں۔
