اگست 6, 2026

سپریم کورٹ کا لاڑکانہ میں کنڈے کے ذریعے بجلی کی فراہمی اور چوری پر اظہار برہمی ۔ ایم ڈی سیپکو کو انکوائری کا حکم۔ ریمارکس دیئے کنڈے سے بجلی فراہم کرنے والوں کے خلاف مقدمات درج ہونے چاہیں۔ کراچی میں ایک گھر بجلی چوری کرتا ہے توکے الیکٹرک پورے محلے کی بجلی بند کردیتا ہے۔

لاڑکانہ میں بجلی کی غیر قانونی لائن گرنے سے شہری کے زخمی ہونے کا معاملہ۔ سپریم کورٹ کراچی رجسٹری نے بجلی کی غیر قانونی سپلائی کے ذمہ دار کی ضمانت منسوخی کی درخواست مسترد کردی۔ جسٹس محمد علی مظہر نے ریمارکس دیئے واقعے کے نو ماہ بعد مقدمہ درج کیا گیا۔مقدمے میں نامزد سیپکو کے افسران کی ضمانت منسوخی کی درخواست دائر نہیں کی گئی۔بجلی میٹر کے بجائے کنڈے کے ذریعے فراہم کی جارہی ہے۔ انتظامی طور پر یہ سنگین صورتحال ہے۔سیپکو قانون کے مطابق غیر قانونی بجلی کی فراہمی کے خلاف کارروائی کرے۔ عدالت نے آرڈر سیپکو کو ارسال کرنے کی ہدایت کی ۔ درخواست گزار نے موقف اپنایاٹھیکیدار ہی پورے علاقے میں کنڈے کے ذریعے بجلی فراہم کرتا ہے۔درخواست گزار نے سیپکو کو انکوائری کی ہدایت پر اعتراض کیا۔ جسٹس محمد علی مظہر نے ریمارکس دیئے ہم نے آپ کے خلاف انکوائری یا مقدمے کا حکم نہیں دیا۔اتنے بڑے پیمانے پر بجلی چوری پر سیپکو کے بڑے صاحب کو جائزے کا حکم دیا ہے۔کراچی میں ایک گھر بجلی چوری کرتا ہے کے الیکٹرک پورے محلے کی بجلی بند کردیتا ہے۔لاڑکانہ میں نجی افراد کے ذریعے کیسے بجلی فراہم کی جاتی ہے۔اسکا پیسہ کہاں جاتا ہے۔پراسیکیوٹر نے کہا نجی افراد کے ذریعے بجلی کی فراہمی نا صرف شہریوں بلکہ ریاست کا بھی نقصان ہے۔صرف ہمیں نہیں بلکہ پورے علاقے میں ایسے ہی بجلی فراہم کی جاتی ہے۔پورا علاقہ کنڈے کے پیسے ٹھیکیدار کو ادا کرتا ہے۔پراسیکیوٹر نے کہا ٹھیکیدار بجلی چوری کرکے فراہم کرتا ہے لیکن اس کا بوجھ ان صارفین پر پڑتا ہے جو بل ادا کرتے ہیں۔ جسٹس محمد علی مظہر نے ریمارکس دیئے ابھی تک بجلی چوری کے خلاف کوئی کارروائی کیوں نہیں ہوئی۔جن کے پاس میٹر نہیں ہیں انہیں بجلی کیسے دی جارہی ہے۔ سپیکو والوں کو بجلی چوری کی فکر نہیں ہے۔ سیپکو کو چاہیئے تھا بجلی چوری کے خلاف خود مقدمات درج کرتا۔ٹھیکیدار بجلی بیچ رہے ہیں، عوام خرید رہی ہے نقصان ریاست کا ہورہا ہے۔کراچی میں بجلی چوری پر مقدمات بھی ہوتے ہیں لاڑکانہ والوں کو کیا چھوٹ دی گئی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے