ایک اُمید کا چراغ گل ہوگیا: ڈاکٹر آکاش کمار کا بے رحمانہ قتل اور کراچی میں بے قابو سٹریٹ کرائم کا ناسور
اگر اب بھی ایکشن نہ لیا گیا تو اس ملک میں کون رہے گا؟ کوئی بھی ڈاکٹر اس ملک میں نہیں رکے گا۔”*
کھیم چند، مقتول ڈاکٹر آکاش کے چچا
کراچی پیر کی ایک روشن دوپہر، جب شہر کا پوش علاقہ کلفٹن معمول کی چہل پہل میں مصروف تھا، ایک ایسا لرزہ خیز واقعہ پیش آیا جس نے ایک ہنستے کھیلتے خاندان کی خوشیاں سدا کے لیے چھین لیں۔
28 سالہ نوجوان ڈاکٹر آکاش کمار، جو ایک کاٹن انڈسٹری کے مالک کے بیٹے تھے، اپنے والد اور کزن کے ہمراہ کلفٹن کے ایک بینک سے 50 لاکھ روپے نکلوا کر دوسرے بینک میں جمع کرانے جا رہے تھے۔ انہیں اندازہ بھی نہیں تھا کہ چار موٹر سائیکل سوار ڈاکو ان کی گھات میں پیچھا کر رہے تھے۔
جیسے ہی ان کی گاڑی کلفٹن تین تلوار کے قریب نجی بینک کے باہر پہنچی، ڈاکوؤں نے انہیں گھیر لیا۔ بینک پر تعینات سیکیورٹی گارڈ نے مزاحمت کرتے ہوئے فائرنگ کر دی، جس کے جواب میں ڈاکوؤں نے بھی اندھا دھند گولیاں چلائیں۔ دن دہاڑے مصروف سڑک پر ہونے والے اس فائرنگ کے تبادلے نے ہر طرف خوف و ہراس پھیلا دیا۔
جب فائرنگ تھمی، تو ڈاکٹر آکاش سینے میں گولی لگنے کے باعث خون میں لت پت ہوچکے تھے۔ ڈاکو گاڑی میں موجود 25 لاکھ روپے کی رقم لوٹ کر فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے۔ ڈاکٹر آکاش کو فوری طور پر جناح اسپتال منتقل کیا گیا—جہاں وہ خود بطور ڈاکٹر خدمات انجام دیتے تھے—لیکن وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گئے۔
ڈاکٹر آکاش کی موت کے ساتھ ہی، رواں برس کراچی میں سٹریٹ کرائم کے دوران ڈاکوؤں کے ہاتھوں قتل ہونے والے شہریوں کی تعداد43 تک جا پہنچی ہے
تین تلوار پر شدید احتجاج اور ٹریفک معطل
نوجوان ڈاکٹر کی موت کی خبر جنگل میں آگ کی طرح پھیل گئی، جس پر لواحقین اور عزیز و اقارب شدید غم و غصے میں سڑکوں پر نکل آئے۔ جناح اسپتال میں ڈاکٹر آکاش کے چچا کھیم چند نے روتے ہوئے کہا کہ ان کا بھتیجا ملک اور عوام کی خدمت کرنا چاہتا تھا، لیکن یہاں کسی کی جان محفوظ نہیں۔
انصاف کے حصول کے لیے لواحقین نے ڈاکٹر آکاش کی میت تین تلوار چورنگی پر رکھ کر دھرنا دے دیا۔ احتجاج کے باعث کلفٹن اور اطراف کی سڑکوں پر بدترین ٹریفک جام ہوگیا۔
حالات کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے میئر کراچی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب اور پولیس کے اعلیٰ حکام مذاکرات کے لیے دھرنے کی جگہ پہنچے۔
میئر کراچی نے مقتول کے والد سے تعزیت کرتے ہوئے کہا: "لوگوں کا غم و غصہ بالکل جائز ہے۔ کسی کا پیارا اس سے بچھڑ گیا ہے، اس کی جان لے لی گئی ہے۔ اس دکھ کی گھڑی میں ہم متاثرہ خاندان کے ساتھ برابر کے شریک ہیں۔”*
صوبائی حکومت اور انتظامیہ کی جانب سے ملزمان کی فوری گرفتاری اور انصاف کی یقین دہانی کے بعد لواحقین نے احتجاج ختم کیا، جس کے بعد میت کو دوبارہ سردخانے منتقل کیا گیا اور سڑک ٹریفک کے لیے کھول دی گئی۔
سیکیورٹی گارڈ کی گولی یا ڈاکوؤں کی؟ تحقیقات جاری
پولیس اس ہولناک واقعے کی مختلف زاویوں سے تفتیش کر رہی ہے۔ سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ ڈاکٹر آکاش کو لگنے والی گولی کس کی بندوق سے چلی؟
ایس ایس پی ساؤتھ محظور علی کے مطابق، ابتدائی طور پر یہ واضح نہیں کہ گولی ڈاکوؤں کی تھی یا سیکیورٹی گارڈ کی جوابی فائرنگ کی۔ انہوں نے بتایا کہ سیکیورٹی گارڈ کو فی الحال حراست میں لے لیا گیا ہے، اور اسلحہ بیلسٹک رپورٹ کے لیے بھیج دیا گیا ہے جس سے حقیقت واضح ہوگی۔ پولیس جائے وقوعہ کے اطراف نصب سی سی ٹی وی کیمروں کی مدد سے ڈاکوؤں کا سراغ لگانے کی کوشش بھی کر رہی ہے۔
آخری رسومات اور سندھ حکومت کی یقین دہانیاں
منگل کے روز کراچی کے شمشان گھاٹ میں مقتول ڈاکٹر آکاش کمار کی آخری رسومات ہندو مذہبی روایات کے مطابق ادا کر دی گئیں۔ اس موقع پر ہر آنکھ اشکبار تھی۔
تعزیت کے لیے وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ، وزیر داخلہ ضیاء الحسن لنجار، اور آئی جی سندھ جاوید عالم اوڈھو مقتول ڈاکٹر کے گھر پہنچے۔
وزیر اعلیٰ سندھ کا کہنا تھا: *”سٹریٹ کرائم کے دوران ہندو برادری کے ایک قابل نوجوان ڈاکٹر کی جان جانا انتہائی افسوسناک واقعہ ہے۔ ہم نے اس کا سخت نوٹس لیا ہے اور ملزمان کو جلد قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔
آئی جی سندھ نے یقین دلایا کہ مقدمے کی تفتیش ترجیحی بنیادوں پر کی جا رہی ہے۔ دوسری جانب، غمزدہ خاندان نے روایتی یقین دہانیوں پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اب تک پولیس کی جانب سے کوئی ٹھوس پیش رفت سامنے نہیں آئی ہے، اور وہ قاتلوں کی فوری گرفتاری تک چین سے نہیں بیٹھیں گے۔
