ماہرین صحت کےمطابق اس وقت دنیا بھر میں تقریباً ساڑھے 3 کروڑ60 لاکھ لوگ نشے کے عادی ہیں۔ پاکستان میں 19فیصد آبادی تمباکو نوشی میں مبتلا ہے ۔ گٹکا، ماوا اور نسوار نشے کی پہلی سیڑھی ثابت ہو رہے ہیں۔
کراچی منشیات اسپتال کے ڈائریکٹر صلاح الدین اختر نے کراچی پریس کلب میں پریس کانفرنس سے خطاب میں کہا پاکستان میں19 فیصد آبادی تمباکو نوشی میں مبتلا ہے، جبکہ گٹکا، ماوا اور نسوار نشے کی پہلی سیڑھی ثابت ہو رہے ہیں۔
صلاح الدین اختر ڈائریکٹر کراچی منشیات اسپتال۔۔۔کراچی میں تھرٹی فائیو ٹو فورٹی پرسنٹ اسکول کالج گوئنگ اسٹوڈنٹس نشے استعمال کر رہے ہیں سگریٹ سے اسٹارٹ ہوتا ہے اور آئس تک جاتا ہے آئس مینز کہ ہیروئن کی نسل جو ہے لیٹسٹ چیزیں ہیروئن سے جو بن رہی ہیں وہاں تک وہ جاتا ہے۔۔۔
ان کا کہنا تھا صرف کراچی میں سالانہ 100 بلین روپے سے زائد مالیت کی منشیات استعمال کی جاتی ہیں۔ سال 2025 کے اعداد و شمار کے مطابق شہر میں تقریباً 900 ملین ڈالر کا سگریٹ، گٹکا اور ماوا فروخت ہوا۔
صلاح الدین اختر ڈائریکٹر کراچی منشیات اسپتال۔۔۔ مجھے میسجز واٹس ایپ پر آ رہے ہیں کہ ہیروئن اتنے کی، چرس اتنے کی۔ مجھے ایسے پیغامات آ رہے ہیں، جبکہ میں ہر روز نشے کے خلاف ایف آئی آر درج کرواتا ہوں۔ نشہ گھروں تک ڈیلیور ہو رہا ہے، آپ کو پتہ بھی نہیں چلے گا کہ آپ کے گھر میں نشہ آ گیا ہے اور گھر والے—بیٹا یا بیٹی—اس میں ملوث ہو رہے ہیں، اور آپ آرام سے بیٹھے ہیں۔
انہوں نے زور دیا کہ منشیات اور اس سے منسلک نفسیاتی بیماریوں میں مبتلا افراد کو تنقید کا نشانہ بنانے کے بجائے علاج کی طرف لایا جائے۔
