وزیر داخلہ سندھ ضیاء الحسن لنجار نے نیشنل ایکشن پلان پر مکمل عملدرآمد اور ممکنہ خدشات و خطرات سے نمٹنے کی حکمت عملی تیار کرنے کی ہدایت کردی۔
امن و امان پر جائزہ اجلاس میں وزیر داخلہ سندھ کا کہنا تھا انٹیلیجنس بیسڈ آپریشنز کو مزید تیز کیا جائے۔اسنیپ چیکنگ، پکٹنگ اور ناکہ بندی مؤثر بنانے کے ساتھ حساس تنصیبات کا سیکیورٹی آڈٹ کیا جائے۔کالعدم تنظیموں اور فرقہ واریت کے انسداد کے اقدامات طے کیے جائیں۔حساس تنصیبات کی سیکیورٹی غیر معمولی بنائی جائے۔ ضیاء الحسن لنجار نے کہا داخلی و خارجی روٹس بھی مکمل طور پر محفوظ بنانے کے اقدامات کئے جائیں۔ سی ٹی ڈی وسائل سے متعلق سفارشات مرتب کرے،، ان میں ڈرونز، وہیکلز اور جدید آلات شامل کیے جائیں۔ڈرون سرویلنس کے لیے علیحدہ یونٹ تشکیل دیا جائے۔صوبائی وزیر داخلہ کا کہنا تھا کراچی کے حساس علاقوں میں ضرورت پڑنے پر ڈرون سرویلنس کی جائے۔ اسپیشل برانچ کی اپ گریڈنگ وقت کا تقاضاہے۔ برانچ کو انسداد دہشت گردی کا ہراول دستہ بنایا جائے۔افسران دفاتر کے بجائے فیلڈ میں ذمہ داریاں سنبھالیں۔
