کراچی
سندھ کے سینئر وزیر اور صوبائی وزیر برائے اطلاعات، ٹرانسپورٹ اور ماس ٹرانزٹ شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ سندھ صوفیوں کی دھرتی ہے، امن اور محبت کی سرزمین ہے، اور اس خطے نے ہمیشہ فراخ دلی اور برداشت کا مظاہرہ کیا ہے۔
سندھ اسمبلی میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ چند روز قبل کراچی میں گورنر ہاؤس میں منعقد ہونے والی ایک تقریب میں جس انداز سے الفاظ اور خیالات کا انتخاب کیا گیا، وہ نہایت افسوسناک تھا۔ اس تقریب میں مقررین کی جانب سے نفرت انگیز اور لسانی تعصب پر مبنی گفتگو کی گئی، جس کی ہم شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہیں۔
شرجیل انعام میمن نے کہا کہ کراچی ایک ایسا شہر ہے جو ماضی میں نفرت، تعصب اور لسانی کشیدگی کے تلخ تجربات سے گزر چکا ہے، اور ایسی گفتگو نے پہلے بھی اس شہر کو شدید اور ناقابلِ تلافی نقصان پہنچایا ہے۔ ایسے حالات میں اس نوعیت کے بیانات دینا شہر کے امن کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ افسوسناک امر یہ ہے کہ اس تقریب میں نہ صرف نفرت اور تعصب پر مبنی باتیں کی گئیں بلکہ بعض ریاستی اداروں پر بھی نامناسب تنقید کی گئی۔ گورنر ہاؤس جیسے آئینی اور باوقار ادارے میں اس طرح کی گفتگو نہ تو مناسب ہے اور نہ ہی اداروں کے وقار اور شہری ہم آہنگی کے لیے محفوظ۔
سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا کہ ایسے مقامات پر بیٹھ کر تعصب پر مبنی پیغامات دینا دراصل اسی ماحول کو دوبارہ زندہ کرنے کی کوشش ہے جسے کراچی پہلے ہی دیکھ اور بھگت چکا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس طرح کے طرزِ اظہار کی کسی صورت گنجائش نہیں ہونی چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ یہ تقریب اور اس میں کی گئی گفتگو شہر کے امن، بھائی چارے اور سماجی ہم آہنگی کے خلاف تھی، اور آج ایم کیو ایم کے ایک منتخب نمائندے کی جانب سے ایم کیو ایم کے دوسرے نمائندے کے لئے اس نوعیت کے بیان کا سامنے آنا مزید تشویش کا باعث ہے۔
