پاکستان میں سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال، اسٹاک ایکسچینج نئی بلندیوں پر
کراچی: پاکستان میں حکومت کی جانب سے معاشی اصلاحات کے مثبت اثرات نمایاں ہونے لگے ہیں، جس کے نتیجے میں پاکستان اسٹاک ایکسچینج دنیا کی بہترین کارکردگی دکھانے والی مارکیٹوں میں شامل ہو گئی ہے۔
دسمبر کے وسط تک 100 انڈیکس ایک لاکھ 71 ہزار 500 پوائنٹس کی سطح عبور کر چکا ہے، جو ملکی و غیر ملکی سرمایہ کاروں کے بڑھتے ہوئے اعتماد کی عکاسی کرتا ہے۔
جنوری سے اب تک امریکی ڈالر میں 47 اور پاکستانی روپے میں 48 فیصد ریٹرن دیا گیا، جبکہ گزشتہ دو برسوں میں مجموعی طور پر 300 فیصد منافع ریکارڈ کیا گیا۔
جون 2024 سے نومبر 2025 کے دوران ایک لاکھ 20 ہزار نئے سرمایہ کار شامل ہوئے، جس سے مجموعی تعداد 10 لاکھ سے تجاوز کر گئی۔
کاروباری منافع میں جنوری تا ستمبر سالانہ بنیادوں پر 14 فیصد اضافہ ہوا، تاہم جولائی تا ستمبر میں یہ اضافہ 9 فیصد رہا۔
میوچل فنڈز کی مجموعی سرمایہ کاری 4 کھرب روپے سے بڑھ گئی ہے۔
2026 کے دوران 16 سے زائد نئی کمپنیاں رجسٹرڈ ہوں گی، جس سے مارکیٹ میں مزید استحکام اور سرمایہ کاروں کا اعتماد بڑھنے کی توقع ہے۔
پاکستان میں بلین ڈالر مالیت کی کمپنیوں کی تعداد 18 سے زائد ہو چکی ہے۔
ماہرین کے مطابق معاشی استحکام، اصلاحات کا تسلسل اور سرمایہ کاروں کے اعتماد کی بحالی وہ بنیادی عوامل ہیں جو اسٹاک مارکیٹ کو عالمی سطح پر صفِ اول کی مارکیٹوں میں لا کھڑا کر رہے ہیں۔
